بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نقد رقم میں نصابِ زکوۃ

سوال

نقد کتنے پیسے ہوں جن پر زکوۃ واجب ہے؟

جواب

اگر کسی کے پاس صرف نقد رقم ہو، اس کے علاوہ نہ اس کے پاس سونا ہو، نہ چاندی اور نہ ہی مالِ تجارت  تو اس صورت میں اگر اس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی کے قیمت کے برابر نقد رقم ہو تو سال مکمل ہونے کے بعد اس کی  زکوۃ کی ادا ئیگی فرض ہوگی، بشرطیکہ وہ رقم اس کی حاجتِ اصلیہ  (ماہانہ ضروری اخراجات اور واجب الادا اخراجات) سے بھی زائد ہو۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

" (ومنها كون المال نصابا) فلا تجب في أقل منه هكذا في العيني شرح الكنز."

(فتاوی ہندیہ، ج: 1، کتاب الزکوۃ، الباب الاول، ص: 172، ط: مکتبہ رشیدیہ)

فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307100230
تاریخ07-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں