بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عمرہ کرنے والے شخص کا اپنے آپ کو حاجی لکھوانا

سوال

کیا عمرہ کرنے والا اپنے آپ کو حاجی لکھوا سکتا ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں حج کرنے والے کو احتراماً حاجی کہہ کر پکارا اور لکھا جاتا ہے ،عمرہ کرنے والے کو حاجی نہیں کہا جاتا ہے ،اگر چہ عمرہ فی نفسہ حج اصغر ہے ،لیکن حج کرنے کے باوجود اپنے نام کے ساتھ حاجی لکھوانا یا کہلوانا ریا کاری کے اندیشہ  کی وجہ سے مناسب نہیں ،چہ جائےکہ حج کیا ہی نہیں بلکہ عمرہ کر کے اپنے نام کے  ساتھ حاجی کا  سابقہ یا لاحقہ لکھوائے ،ایسا کرنا درست نہیں ہے۔

شرح مختصر الطحاوی میں ہے:

"قال أبو جعفر: (والعمرة سنة، وليست بواجبة).وذلك لأنه روي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: "العمرة هي الحجة الصغرى".وقال عبد الله بن شداد ومجاهد رضي الله عنهما: "إن العمرة ‌الحج ‌الأصغر."

(کتاب المناسك، ج:2، ص:287، ط: دار البشائر الإسلامیة)

صحیح مسلم میں ہے:

"عن ‌ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « من سمّع سمّع الله به، و من رائى رائى الله به."

(کتاب الزهد و الرقائق، باب من أشرك في عمله غیر اللہ، ج:8، ص:223، ط:دار الطباعة العامرۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307100196
تاریخ07-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں