بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عدت میں آپریشن کرانے کا حکم

سوال

دوران عدت پتھری کا آپریشن کروانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر عدت کے دوران آپریشن کرانا ناگزیر ہویعنی کوئی مسلمان دین دار تجربہ کار ڈاکٹریہ کہہ دے  کہ فی الفور  آپریشن کرانا ناگزیر ہے، ورنہ نقصان ہو سکتا ہے یا پتھری کی وجہ سے شدید تکلیف ہو تو بقدرِ ضرورت ہسپتال میں داخل ہوکر آپریشن کرانے کی گنجائش ہے، لیکن اگر آپریشن فی الفور کرانا ضروری نہ ہو اور تکلیف قابلِ برداشت ہو تو دورانِ عدت آپریشن کرانے کے لیے گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں ہوگا۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"(‌وتعتدان) ‌أي ‌معتدة ‌طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه"۔

(کتاب الطلاق، باب العدۃ، ص:536، ج:3، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307100191
تاریخ06-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں