بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رجب کی دعا کا حکم

سوال

رجب کے چاند دیکھنے  کی  جو  دعا ہے کیا وہ ضعیف حدیث ہے؟

جواب

رجب کی دعا جو احادیث میں منقول ہے وہ یہ ہے:

"اَللّٰھُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيْ رَجَبَ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ."

مذکورہ دعا احادیث کی متعدد کتابوں میں منقول ہے،بعض ائمہ احادیث  نے اس کی سند میں کلام کیا ہے اور اس کے بعض راوی پر ضعف کا حکم لگایا ہے،تاہم فضائل کے باب  میں اس درجہ کا ضعف قابل قبول ہے؛  لہذا اس دعا کو پڑھنا درست ہے۔ البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی جانب اس دعا کی نسبت میں احتیاط کرنی چاہیے۔

تذکرة الموضوعات للفتني   میں ہے:

"روي بإسناد ضعيف:” أنه صلى الله عليه وسلم كان إذا دخل رجب قال: اللهم بارك لنا في رجب وشعبان وبلغنا رمضان، ويجوز العمل في الفضائل بالضعيف."

(تذكرة الموضوعات للفتني :۱/ ۱۱۷)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307100126
تاریخ06-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں