بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خیرات کا حکم

سوال

خیرات کس طرح دیں، شرعی طریقہ بتائیں؟

جواب

خیرات کا معنی ہے: نیکی اور بھلائی کے کام ،  ہمارے عرف میں اس کا عام اطلاق ”صدقہ نافلہ“ پر ہوتا ہے یعنی جو مال اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے کسی خیر کے کام میں خرچ کیا جائے وہ صدقہ و خیرات کہلاتا ہے، اس کے لیے شرعاً کوئی خاص طریقہ مخصوص نہیں ہے،  یہ مال دار اور فقیر  دونوں کو دی جاسکتی  ہے،  یہ ہر وقت اورہر زمانہ میں جائز  اور باعث ثواب ہے، لیکن اس کو  کسی ایسے دن  میں  کرنے کا التزام کرلینا جو شریعت سے ثابت نہ ہو اور اس تعیین کو ثواب سمجھنا یا اس میں دیگر منکرات شامل ہوں تو پھر  یہ بدعت بن جاتا ہے، نیز عام حالات میں نفلی صدقہ  مخفی  طور پر یعنی چھپاکر دینا افضل ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"و أما صدقة التطوع فيجوز صرفها إلى الغني ؛ لأنها تجري مجرى الهبة."

 (2/ 47،كتاب الزكاة، ط: سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307100124
تاریخ06-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں