بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’ تم اپنے تین بچوں کے ساتھ بیٹھ جاؤ ‘‘ سے طلاق

سوال

میں نے اپنی بیوی سے کہا تھا:’’تم اپنے تین بچوں کے ساتھ بیٹھ جاؤ ‘‘اور یہ لڑائی کے دوران کہا تھا ،اس بات کے کہنے میں نہ ارادہ تھا اور نہ نیت تھی ،اس بات کو آٹھ سے نو مہینے گذرگئے ہیں ،پوچھنا یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں اور اگر ہوگی تو رجوع کی کیا صورت ہوگی ؟

جواب

’’تم اپنے تین بچوں کےساتھ بیٹھ جاؤ‘‘تو شرعاً یہ الفاظ نہ تو   طلاق کے  صریح الفاظ میں سے ہیں اور نہ ہی کنائی الفاظ میں سے ،لہذا صورت مسؤلہ میں سائل کی بیوی پر اس جملہ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے ،نکاح حسب سابق برقرار ہے ، البتہ اس قسم کے الفاظ استعمال کرنے گریز کرنا چاہئے۔

وفي الدر المختار :

"(كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره."

(3/ 296ط:سعيد)

وفي الفتاوى الهندية :

" ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام."

(1/ 374ط:دار لفكر)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307100019
تاریخ03-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں