بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رضاعی چچا سے نکاح کا حکم

سوال

نذیر نے بچپن میں بشیر کی والدہ کا دودھ پیا تھا، اب نذیر کی بیٹی کا بشیر کے چھوٹے بھائی کے ساتھ نکاح جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر نذیر نے مدتِ رضاعت یعنی دو یا ڈھائی سال کی عمر کے اندر بشیر کی والدہ کا دودھ پیا تھا تو ایسی صورت میں  بشیر کا چھوٹا بھائی نذیر کی بیٹی کا رضاعی چچا بن گیا، اور  جس طرح حقیقی بھتیجی کے ساتھ نکاح شرعاً جائز  نہیں اسی طرح رضاعی بھتیجی کے ساتھ بھی نکاح جائز نہیں، لہذا ان دونوں کا آپس میں نکاح کرنا حرام ہے۔

تبيين الحقائق ميں هے:

"زوج مرضعة لبنها منه أب للرضيع وابنه أخ وبنته أخت ‌وأخوه ‌عم وأخته عمة۔"

(كتاب الرضاع، 183/2/المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307100001
تاریخ03-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں