بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بہن کو شرعی حصہ دینے کے بعد دوبارہ حصہ کا مطالبہ کرنے حکم

سوال

ہمارے والد کا انتقال ہوا، ورثاء میں بیوہ، چار بیٹے اور ایک بیٹی تھی، مرحوم کے بیٹوں نے شرعی طریقے سے حساب و کتاب کرکے بہن کا حصہ معلوم کیا، اور اسے دے دیا، اب بہن  دوبارہ حصہ مانگ رہی ہے، اب  اس کا دوبارہ حصہ مانگنا درست ہے کہ نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً بھائیوں نے شرعی تقسیم کرکے بہن کا شرعی حصہ اسے دے دیا  ہو تو اب وہ مزید کسی حصے کی  شرعاًحقدار نہیں ہے، لہٰذا بہن کا مذکورہ مطالبہ بے جا ہے۔

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام میں ہے: 

"لايجوز الرجوع عن القسمة الصحيحة والتامة."

(الكتاب العاشر الشركات، ج:3، ص:161، ط:دار الجيل)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144306100871
تاریخ01-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں