بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مطلقہ کا نام کیے ہوئے گھر میں اپنی ملکیت کا دعوی کرنا

سوال

میں نے بیوی کو طلاق دیدی ہے، اب وہ کہتی ہے کہ جس گھر میں ہم رہائش پذیر ہیں وہ میرا ہے، حالانکہ 18 سال پہلے یہ گھر مجھے میرے دوستوں نے گفٹ کیا تھا، اور شناختی کارڈ کی مدت ختم ہونے کی وجہ سے میں نے بیوی کے نام پر کیا تھا، اب وہ کہتی ہے کہ یہ میرا ہے، پوچھنا یہ ہے کہ ان کا مذکورہ دعوی کس حد تک درست ہے؟ کیوں کہ میری نیت ہدیہ کرنے کی نہیں تھی، صرف شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے ان کے نام کیا تھا۔ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں چونکہ سائل نے مکان اپنی بیوی کے صرف نام کیا تھا،مالکانہ قبضہ اور تصرف اپنابرقراررکھا،لہذا مذکورہ مکان سائل کی ملکیت ہے،بیوی کا یہ کہنا کہ "وہ میرا ہے" درست نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وتصح بإيجاب ك وهبت ونحلت وأطعمتك هذا الطعام ولو) ذلك (على وجه المزاح) بخلاف أطعمتك أرضي فإنه عارية لرقبتها وإطعام لغلتها بحر (أو الإضافة إلى ما) أي إلى جزء (يعبر به عن الكل  کوهبت لك فرجها وجعلته لك) لأن اللام للتمليك بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة."

(کتاب الھبة،5/ 688،ط:سعید)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144306100864
تاریخ01-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں