بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دوبطن کا مناسخہ

سوال

میرے شوہر کا  انتقال ہوگیا، ورثاء میں بیوہ، والدین،دوبیٹے اورایک بیٹی تھی۔پھر میرےسسرکا انتقال ہوگیا،ورثاء میں بیوہ،تین بیٹیاں،دوپوتے اور ایک پوتی ہے، بیٹا کوئی نہیں ہے، میرے شوہر اکلوتے تھے۔مرحوم کے ترکہ میں پچاس ہزار روپےنقدی ہے، اور ایک گاڑی تھی جو تین لاکھ چالیس ہزار روپے  میں فروخت ہوئی ہے،یوں ان کے ترکہ کی کل رقم تین لاکھ نوے ہزار روپے ہے ، ترکہ کی مذکورہ رقم کس طرح تقسیم ہوگی اور ہر ایک وارث کے حصے میں کتنا آئےگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے ترکے کی تقسیم  کا شرعی طریقہ یہ  ہے کہ سب سے پہلے   مرحوم  کے حقوقِ متقدّمہ یعنی تجہیز وتکفین  کا خرچہ نکالنے کے بعد،  اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے کل ترکہ  سے ادا کرنے کے بعداور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے باقی ترکہ کے ایک تہائی  میں سے نافذ کرنے کے بعد  کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ2160حصے کرکےمرحوم کی بیوہ(سائلہ) کو270حصے،والدہ کو405حصے،ہرایک بیٹے کو 498حصےاور ایک بیٹی کو249حصے،مرحوم کےوالدِمرحوم(سائلہ کے سسر) کی ہرایک بیٹی کو80حصے ملیں گے۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت:2160/120/24(مرحوم شوہر )

بیوہ  والد والدہ  بیٹا بیٹا بیٹی
3 4 4 13
15 20 20 26 26 13
270 فوت شد 360 468 468 234

میت:18/72/24 ....مف:5/20( والدمرحوم)

بیوہ بیٹی بیٹی بیٹی پوتا پوتا پوتی
3 16 2 2 1
9 16 16 16 6 6 3
45 80 80 80 30 30 15

یعنی390000روپے میں سے مرحوم کی بیوہ(سائلہ) کو48750روپے،والدہ کو73125روپے،ہرایک بیٹے کو89916.667روپےاور ایک بیٹی کو44958.333روپے،مرحوم کےوالدمرحوم(سائلہ کے سسر) کی ہرایک بیٹی کو14444.444روپے ملیں گے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144306100707
تاریخ27-01-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں