بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اذان و اقامت میں جزم ہے

سوال

ایک شخص اقامت میں حی علی الصلاۃ اور قد قامت الصلاۃ کو حالت وقف میں ہ پڑھنے کے بجائے تا پڑھے یعنی حی علی الصلات اور  قد قامت الصلات پڑھے تو شرعا اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں اذان اور اقامت کے ہر کلمہ میں وقف کرنا حدیث سے ثابت ہے اور وقف کی صورت میں ”حی علی الصلوٰۃ“ اور ”قد قامت الصلوٰۃ“ کے آخر کی گول تاء کو وقف  کی حالت میں ”ہ“ پڑھیں گے۔ لہذا مذکورہ شخص کو چاہیئے کہ اس  کی اصلاح کرے ، تاہم اس  وجہ سے اذان و اقامت اور نماز میں کوئی خلل نہیں آئے گا۔

الدر المختار میں ہے:

"قوله - عليه الصلاة والسلام - «الأذان جزم» أي مقطوع المد، فلا تقول آلله أكبر؛ لأنه استفهام وإنه لحن شرعي، أو مقطوع حركة لآخر للوقف، فلا يقف بالرفع، لأنه لحن لغوي... وفي الرد: وروي ذلك عن النخعي موقوفا عليه، ومرفوعا إلى النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه قال «الأذان جزم، والإقامة جزم، والتكبير جزم»۔"

(الدر المختار مع رد المحتار، 386،385/1، سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144306100474
تاریخ20-01-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں