بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی سے دو بار کہنا کہ اگر تم نے دروازہ نہ کھولا تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا اور پھر بیوی نے دروازہ کھول دیا

سوال

میری شادی کو تقریباً پانچ سال ہوگئے ، میرے دوبچے ہیں، ایک لڑکا اور ایک لڑکی ، لڑکے کی   عمردو سال ہےاور لڑکی کی عمر تین سال ہے، تین ماہ پہلے میرا اور میری بیوی کا جھگڑا ہوا تھا،جھگڑے کے دوران میں اپنی بیوی کو مارنے کے لیے اٹھاتو اس نے اپنے پیچھے دروازہ بند کردیا، میں نے اسے کہا کہ "اگر تم نے نہ کھولا تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا"، دو دفعہ میں نے یہ الفاظ دہرائے،تو میری بیوی نے دروازہ کھول دیا ، دوسرے دن وہ اپنی ماں باپ کے گھر چلی گئی اور وہاں جاکر کہہ دیا کہ مجھے میرے شوہر نے طلاق دے دی ہے ، اس بارے میں شرعی اعتبار سے میری راہ نمائی فرمائیں، تاکہ میں اپناگھر  دوبارہ بساسکوں ۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کابیان اگر واقعۃً درست ہے کہ اس نے اپنی بیوی سے یہ الفاظ کہے تھے کہ"اگر تم نے دروازہ نہ کھولا تومیں تمہیں طلاق دے دوں گا"، اس کے بعد بیوی نے دروازہ کھول بھی دیا تھا، مذکورہ الفاظ میں چوں کہ طلاق کا صرف وعدہ اور دھمکی ہے، لہذا ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،سائل کی بیوی بدستور اس کے نکاح میں ہے، لہذا سائل کی بیوی کا اپنے میکے چلی جانااور یہ کہنا شرعاً درست نہیں کہ" میرے شوہر نے مجھے طلاق دےدی ہے"، سائل کی بیوی کوچاہیے کہ اپنے شوہر کے گھر واپس آجائےاور اپنے شوہر اوربچوں کے ساتھ خوش اسلوبی سے زندگی بسرکرے۔

الدر مع الرد میں ہے:

"بخلاف قوله: طلقي نفسك فقالت: أنا طالق أو أنا ‌أطلق نفسي لم يقع؛ لأنه وعد جوهرة، .... وعبارة الجوهرة: وإن قال: طلّقي نفسك فقالت: أنا أطلّق لم يقع قياساً واستحساناً".

(الدر مع الرد، کتاب الطلاق، باب تفویض الطلاق،ج:۳،ص:۳۱۹،ط:سعید)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144306100471
تاریخ20-01-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں