بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹے کا والد کی زندگی میں حصہ لینے کی صورت میں والد کے انتقال کے بعد دوبارہ حصہ طلب کرنا

سوال

ہم تین بھائی  اور پانچ بہنیں ہیں، میرے والد  نے اپنی حیاتی میں ہی میرے بڑے بھائی کو اپنی کل جائیداد میں سے جو ان کا حصہ بنتا تھا وہ دے دیا اور ایک اسٹامپ پیپر پر دستخط کردیئے ،جس پر لکھا ہے میں نے اپنا مکمل حصہ لے لیا  ہے ، اب جب کہ میرے والد  کے انتقال  کو عرصہ گزر چکا ہے وہ وہ (بڑا بھائی) چاہتا ہے کہ مجھے دوبارہ حصہ دیا جائے،  اس سلسلے میں ہماری رہنمائی فرمائیں ۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر  واقعۃ سائل کے بڑے بھائی نے والد سے حصے لیتے وقت یہ معاہدہ کرلیا تھا کہ وہ اس شرط پر یہ حصہ لے رہا ہے کہ والد کے انتقال کے بعد وہ والد کے ترکے میں سے حصہ نہیں لے گا  تو اب والد کے انتقال کے بعد وہ والد مرحوم کے ترکے میں سے دوبارہ حصہ لینے کا حق دار نہیں ہے اور اس کا دوبارہ حصے کا مطالبہ کرنا غلط ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"قال القهستاني: واعلم أن الناطفي ذكر عن بعض أشياخه أن المريض إذا عين لواحد من الورثة شيئا كالدار على أن لا يكون له في سائر التركة حق يجوز، وقيل هذا إذا رضي ذلك الوارث به بعد موته فحينئذ يكون تعيين الميت كتعيين باقي الورثة معه كما في الجواهر اهـ. قلت: وحكى القولين في جامع الفصولين فقال: قيل جاز وبه أفتى بعضهم وقيل لا اهـ".  

(كتاب الوصايا،6/ 655، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144306100222
تاریخ12-01-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں