دوبیٹوں اورتین بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم
سوال
ہمارے والد کا انتقال ہوا ان کے ورثاء میں دوبیٹے اور تین بیٹیاں ہیں ، بیوہ کا انتقال پہلے ہوچکاہے ،مرحوم کےوالدین کا انتقال پہلے ہوچکاہے ، نوے گز کا ایک مکان ہے اور کچھ نقد رقم 4800000 روپے ہے، راہ نمائی فرمائیں ۔
جواب
صورتِ مسؤلہ میں مرحوم کے ترکے کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوقِ متقدّمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعداور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے باقی ترکہ کے ایک تہائی میں سے نافذ کرنے کے بعدباقی کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو 7حصوں میں تقسیم کرکےمرحوم کے ہر ایک بیٹے کو2،2حصےاورمرحوم کی ہر ایک بیٹی کوایک ،ایک حصہ ملے گا۔
صورت تقسیم یہ ہے :
میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ7 والدین
| بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 2 | 2 | 1 | 1 | 1 |
یعنی 100روپے میں سے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو28.571 روپے ،اور اس کی ہرایک بیٹی کو 14.285روپے ملیں گے ۔
نوٹ:4800000روپے میں سے مرحوم کے ہرایک بیٹے کو 1371428.5714 روپے اور اس کی ہرایک بیٹی کو685714.28571 روپے ملیں گے ۔
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

