بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والدہ کو کہنا کہ میں آپ کو اور آپ کے گھر کو طلاق دے کر جا رہا ہوں

سوال

میری لڑائی ہوئی اپنی والدہ اور بہن کے ساتھ ،میں نے ان کو  پانچ دفعہ بولا :آپ کو اور آپ کے   گھر کو طلاق  دے کر جا رہا ہوں۔  میں نے  یہ الفاظ  اپنی اہلیہ کو نہیں بولے تھے۔ میں  اس بات کے لیے حلف دینے کے لیے تیار ہوں۔ میری اہلیہ کے سننے میں ایسا لگا کہ شایدمیں اس کو بول رہا تھا۔  میری تین سال کی بیٹی ہے۔

برائے مہربانی میری اس  بارے میں رہنمائی فرمائیں  کہ  کیا اس طرح طلاق واقع ہو جاتی ہے؟ جبکہ میں یہ الفاظ اپنی بیوی کو بالکل نہیں بولے، ان کو غلط فہمی ہوئی ہے اور اس وقت اہلیہ دوسرے کمرے میں تھی۔

جواب

صورت مسئولہ میں  سائل   نے اگر یہ الفاظ: " آپ کو اور آپ کے   گھر کو طلاق  دے کر جا رہا ہوں "  اپنی والدہ کو اور بہن کو کہے تھے، اور بیوی کی طرف اس کی نسبت نہیں کی تھی ، تو یہ الفاظ کہنے سے اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ دونوں کا رشتہ برقرار ہے۔

      فتاوی شامی میں ہے:

"لكن لا بد في وقوعه قضاءً وديانةً من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها."

(3/250، کتاب الطلاق، ط؛ سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144306100055
تاریخ06-01-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں