بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مشروط طلاق شرط کے پائے جانے پر واقع ہوجاتی ہے

سوال

ایک آدمی کی ایک عورت کے ساتھ منگنی ہوئی، لیکن شادی سے قبل مرد کا انتقال ہوگیا، مرنے والے کے بھائی نے اس کی موت کے بعد یہ کہاکہ : "اگر اس عورت نے جس سے ہمارے بھائی کی منگنی ہوئی تھی، کسی اور جگہ شادی کی تو میری  بیوی کو طلاق ہے ، طلاق ہے، طلاق ہے"، اب اس عورت نے دوسری جگہ شادی کر لی ہے۔

پوچھنا یہ ہے کہ مذکورہ جملہ  اداکرنے والے کی بیوی پر طلاقیں واقع ہوئیں یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب مذکورہ شخص نے اپنی بیوی کی تین طلاقوں کو مرحوم  بھائی کی منگیتر کی شادی پر معلق کیا تھا اور  دوسری  جگہ شادی کر لی ہے تو شرط کے پائے جانے کی وجہ سے مذکورہ شخص کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں اور بیوی اس پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو گئی ہے، اب رجوع یا مزید ساتھ رہنے کی گنجائش نہیں ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق

(الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما:1 /420،ط:دار الفكر)

و فیہ ایضاً:

"وإن كان ‌الطلاق‌ ثلاثا في الحرة و ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية."

(کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به 473/1، ط: دار الفکر)

فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144305100759
تاریخ01-01-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں