بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

علیحدہ رہنے سے نکاح پر اثر پڑتا ہے یا نہیں؟

سوال

میرے والد، والدہ میں 22 سال سے جدائیگی ہے، دونوں الگ رہتے ہیں، کسی گھریلو مسئلہ کی وجہ سے علیحدگی ہوئی تھی، طلاق وغیرہ نہیں دی تھی، اب پوچھنا یہ ہے کہ نکاح برقرار ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کے والد اور والدہ کے درمیان طلاق وغیرہ کا معاملہ نہیں ہوا، صرف گھریلو مسائل کی وجہ سے علیحدہ رہ رہے ہیں تو نکاح پر کوئی اثر نہیں ہوا، نکاح بدستور قائم ہے، اگر چہ 22 سال سے علیحدہ رہ رہے ہوں، تا ہم اس طرح دونوں کا علیحدہ رہنا شرعی اصولوں کے خلاف ہے، ان پر لازم ہے کہ ایک دوسرے کی شکایات کا ازالہ کریں اور ساتھ رہ کر ایک دوسرے کے شرعی حقوق کو ادا کریں اور اختلافات کے خاتمے کے لیے دونوں خاندان کے معزز اور بزرف اگراد سے رابطہ کر کے معاملہ کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية۔"

(کتاب الطلاق، ص/230، ج/3، ط/سعید)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144305100671
تاریخ28-12-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں