بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ اور سات بھائیوں میں ترکہ کی تقسیم کا طریقہ

سوال

زید کا انتقال ہو گیا ہے، جس کی کوئی اولاد نہیں ہے، صرف ایک بیوہ ہے اور سات سگے بھائی ہیں، بہن بھی کوئی نہیں اور والدین کا انتقال بھی پہلے ہو چکا ہے، وراثت کس کس کو ملے گی؟ اور حصوں کی تقسیم کس طرح ہو گی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ  کی تقسیم کا شرعی  طریقہ یہ ہے کہ اولاً مرحوم کے ترکہ میں سے اس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات ادا کیے جائیں، پھر اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرضہ ہو تو اس کو ادا کرنے کے بعد اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو ایک تہائی ترکہ میں سے نافذ کرنے کے بعد باقی ترکہ کو 28 حصوں میں تقسیم کر کے بیوہ کو  سات حصے اور ہر ایک بھائی کو تین حصے ملیں گے۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

28/4

بیوہ بھائی بھائی بھائی بھائی بھائی بھائی بھائی
1 3
7 3 3 3 3 3 3 3

یعنی فیصد کے اعتبار سے 25 فیصد بیوہ کو اور 10.714 فیصد ہر ایک بھائی کو ملے گا۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144305100663
تاریخ27-12-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں