بیوہ اور سات بھائیوں میں ترکہ کی تقسیم کا طریقہ
سوال
زید کا انتقال ہو گیا ہے، جس کی کوئی اولاد نہیں ہے، صرف ایک بیوہ ہے اور سات سگے بھائی ہیں، بہن بھی کوئی نہیں اور والدین کا انتقال بھی پہلے ہو چکا ہے، وراثت کس کس کو ملے گی؟ اور حصوں کی تقسیم کس طرح ہو گی؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ اولاً مرحوم کے ترکہ میں سے اس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات ادا کیے جائیں، پھر اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرضہ ہو تو اس کو ادا کرنے کے بعد اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو ایک تہائی ترکہ میں سے نافذ کرنے کے بعد باقی ترکہ کو 28 حصوں میں تقسیم کر کے بیوہ کو سات حصے اور ہر ایک بھائی کو تین حصے ملیں گے۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:
28/4
| بیوہ | بھائی | بھائی | بھائی | بھائی | بھائی | بھائی | بھائی |
| 1 | 3 | ||||||
| 7 | 3 | 3 | 3 | 3 | 3 | 3 | 3 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے 25 فیصد بیوہ کو اور 10.714 فیصد ہر ایک بھائی کو ملے گا۔
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

