بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غصہ کی حالت میں طلاق دیتا ہوں طلاق طلاق کہنے کا حکم

سوال

میرے بھائی کا اپنی اہلیہ سے چند روز قبل کسی بات پر لڑائی جھگڑا ہوا ،چار دنوں سے اس کی طبیعت بہت خراب تھی،  جس  کی  وجہ  سے  وہ  کام  سے  جلدی  گھر آجاتا  تھا لڑائی  کے  دوران بات بہت بڑھ گئی، وہ بلڈ پریشر کا مریض ہے کہ جب غصہ آتا ہے تو کبھی اپنے ہوش و حواس میں نہیں رہتا، اس نے گھر والی پرہاتھ اٹھایا تو بیوی نے  کہا کہ " اگر مرد کے بچے ہو تو مجھے طلاق دو "اس پر وہ بے قابو ہوگیا اور  کہا کہ "میں تجھے طلاق دیتا ہوں طلاق طلاق"  اب پوچھنا یہ ہے کہ: کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟ مذکورہ بھائی نے  ایک فتوی کسی اور دارالافتاء سے لیا تھا وہ بھی ساتھ منسلک ہے۔

جواب

صورتِ  مسئولہ میں سائل کے بھائی کا غصہ اور لڑائی جھگڑے کی حالت میں ( طلاق کے الفاظ کہتے وقت اس قدرہوش وحواس تھاکہ اسے معلوم تھاکہ وہ زبان سے طلاق کےالفاظ نکال رہاہے)اپنی بیوی کو یہ کہنا کہ "میں تجھے طلاق دیتا ہوں طلاق طلاق"سے شرعاً اس  کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں ہیں، بیوی شوہر پر حر مت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی، اور نکاح ختم ہو گیا ، اب  رجوع یا  دوبارہ نکاح کرنا بھی جائز نہیں ۔

مطلقہ  عدت (پوری تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو اور اگر حمل ہو تو بچے کی پیدائش تک)گزار کر دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضاً حتى لايجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - ﴿فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَه مِنْ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَه﴾[البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثاً متفرقاً أو جملةً واحدةً" .

(3/187، فصل في حكم الطلاق البائن، کتاب الطلاق، ط؛ سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144305100589
تاریخ25-12-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں