بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک کی تنخواہ سے مسجد بنانا

سوال

 آدمی نیشنل بینک میں ابتداءً چپراسی کی حیثیت سے بھرتی ہواپھرکلرک بنااورپھرآخرمیں آفیسر بنا، بقول اس کےکہ میراسودی لین دین سے کوئی واسطہ نہیں تھا، اب آخرمیں ریٹائرہونے پراس کوفنڈملاجس سے میں نےایک مکان خریدااوراب میں نے اس مکان کوفروخت کردیاہے ، میں ان پیسوں سے مسجدکی تعمیرمیں حصہ لے سکتاہوں یانہیں؟

جواب

 واضح رہے کہ بینک کا مدار سودی نظام پر ہے، اور  سود کا لینا دینا، لکھنا اور اس میں گواہ بننا سب ناجائز  اور حرام ہے، اور بینک  ملازم سود لینے، دینے  یا لکھنے کے کام میں مصروف ہوتے ہیں  یا کم سے کم ان کاموں میں معاون ہوتے ہیں اور یہ سب ناجائز و حرام ہیں۔

لہذا صورت مسئولہ میں بینک  کے  کسی بھی شعبہ میں ملازمت کرنا( چپراسی بننا، کلرک یا آفیسربننا ) جائز نہیں ہے اور اس ملازمت سے ملنے والی تنخواہ بھی حرام ہے،لہذا  مذکورہ   سودی  رقم سے جو ضرورت سے زائد ہے وہ ثواب   کی نیت کے بغیر غرباء و مساکین میں تقسیم کرنا واجب ہوگا، مذکورہ رقم مسجد  کی تعمیر میں صرف کرنا جائز نہ ہوگا۔

       ارشاد باری  تعالی ہے:

وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى ۠ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ۔

  (سورة المائدة الایة:۲)

ترجمہ: اور نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی اعانت کرتے رہو اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو۔

 حاشیۃ  ردالمحتارمیں ہے :

والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه.

(حاشیۃ ردالمحتار  ۵ / ۹۹ ط : سعید)

البحرالرائق میں ہے :

ويردونه على أربابه إن عرفوهم وإلا يتصدقوا به لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد ۔

(البحرالرائق فصل فی البیع ۸ / ۲۲۹ ط : دارالمعرفۃ بیروت)

فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144305100576
تاریخ25-12-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں