بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قتلِ خطاء کی دیت مقتول کی میراث ہے ، چار بطن کا مناسخہ

سوال

میرے والد کا ایکسیڈنٹ  حادثہ میں انتقال ہوا ، جس محکمہ میں  والد صاحب  کا م کرتے تھے ، انہو ں نے اس کار والے کو پکڑا ، جس نے والد صاحب کو مارا تھا  اور اس سے دیت میں ہمیں  عزیز آباد میں  ایک مکان دلوایا ، مکان دو بھائیوں کے  نام الاٹ ہو گیا ، باقی دو بھائی چوں کہ چھوٹے تھے ، اس لیے کاغذات میں ان کا نام نہیں آسکا ۔

پوچھنا یہ ہے کہ اس مکان  میں دیگر ورثاء کا کوئی حق ہے؟ یا یہ مکان صرف انہیں دو بھائیوں کا ہے ، جن کے نام پر ہے ؟ ان بھائیوں کی بیویوں میں سے ایک کی بیوی نے ہم پر کیس کردیا، ان کا دعوی ہے کہ یہ مکان صرف انہیں دونوں بھائیوں کا ہے ، کیا ان کا یہ دعوی شرعاً درست ہے ؟

مرحوم کے ورثاء میں بیوہ ، چار بیٹے تھے ۔

پھر ایک بیٹے   زید  کا انتقال ہوا ، ورثا ء میں بیوہ ، ایک بیٹا  بکر  اور دو بیٹیاں   تھیں ۔

پھر  زید کے بیٹے    بکر  کا انتقال ہوا ، ورثاء میں والدہ  ، دو بہنیں ، تین چچا تھے ۔

پھر اس کے بعد  عمرو کی بیوہ کا انتقال ہوا ، ورثا ء میں تین بیٹے ہیں ۔

اگر مکان میں تمام ورثا ء کا حق ہے تو اس کی تقسیم کا طریقہ بتادیں ۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ مکان جو کہ محکمہ نے کار والے سے سائل کے   والد کی  دیت میں لیا تھا ، پھر وہ مکان  سائل کے دو بڑے بھائیوں کے نام  ان کے بڑے ہو نے کی وجہ سے الاٹ ہو گیا  تو  اس سے شرعاً وہ مکان ان دو بھائیوں کی ملکیت نہیں ہوا ، بلکہ  وہ سائل کے والد کی میراث ہے اور اس  میں  مرحوم کے تمام ورثا ء کا حق ہے  ؛ لہذا وہ مکان تمام ور ثا ء میں ان کے شرعی حصوں کے اعتبار سے  تقسیم ہوگا ، سائل کے بھائی کی بیوی  کا یہ دعوی کرنا کہ  یہ مکان دونوں بھائیوں کا ہے ،  درست نہیں ، نیز بھائی کی بیوی کا   سائل اور دیگر ورثاء  کے خلاف کیس دائر کرنا بھی  شرعاً غلط ہے ۔

  سائل  کے والدکےترکہ کی  شرعی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ   سائل کے والد مرحوم کے ترکہ  میں سے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچ نکالنے  کے بعد ، اگر مرحوم پر کوئی قرض   ہو تو اسے ادا کرنے کے بعد، اور   اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی مال  کے ایک تہائی میں اسے نافذ کرنے کے بعد ،باقی متروکہ جائیداد منقولہ و غیر منقولہ  کے کل  27648 حصے کئے جائیں گے  ، جس میں سےمرحوم کے ہر زندہ بیٹے کو 7655  حصے ، مرحوم  بیٹے علاؤالدین کی بیوہ کو 1113 حصے اور  ہر بیٹی کو1785  حصےملیں گے ۔  

میت : (والد) ، مسئلہ : 8 / 32 / 3072 / 27648

بیوہ بیٹا (زید) بیٹا بیٹا بیٹا
1 7
4 7 7 7 7
384 فوت شد 672 672 672
3456 - 6048 6048 6048
فوت شد - - - -

میت : (زید) ، مسئلہ : 24 / 96  ، مافی الید : 7

والدہ  بیوہ بیٹا  (بکر) بیٹی  بیٹی 
4 3 17
16 12 34 17 17
112 84 238 119 119
1008 756 فوت شد 1071 1071
فوت شد - - - -

میت : (بکر)  ، 6 / 18 / 9 ، مافی الید : 238 / 119

والدہ  بہن بہن چچا چچا چچا
1 4 4 1
3 6 6 1 1 1
357 714 714 119 119 119

میت : (والدہ) ، مسئلہ : 3 / 1  ، مافی الید : 4464 / 1488 

بیٹا بیٹا بیٹا
1 1 1
1488 1488 1488

یعنی سو روپے میں سے مرحوم کے ہر زندہ بیٹے کو 27.6873روپے ، مرحوم کے بیٹے مرحوم  زید کی بیوہ کو 4.0256روپے اور  ہر بیٹی کو6.456  روپے  ملیں گے ۔

سنن ابی داؤد میں ہے:

"عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقوم دية الخطأ على أهل القرى ... قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن العقل ميراث بين ورثة القتيل على قرابتهم، فما فضل فللعصبة."

( کتاب الدیات، باب دیة الأعضاء : 4 ، 189 ، ط : المکتبة العصریة)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"ثمّ ‌دية ‌المقتول تكون ميراثًا عنه لجميع ورثته كسائر أمواله عندنا."

(كتاب الفرائض، باب ميراث القاتل: 30 / 49، ط: دار المعرفة)

فقط و اللہ  اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144305100481
تاریخ21-12-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں