بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رضاعی باپ کی جائیداد میں رضاعی بیٹے کا حصہ نہیں ہے

سوال

ایک شخص کا انتقال ہوا،اس کے ورثاء میں بیوہ،پانچ بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔مرحوم کے والدین پہلے ہی انتقال کر گئے تھے،مذکورہ شخص کا ایک پلاٹ جس کی قیمت  ستائیس لاکھ روپے ہے،ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگا،بیوہ نے ایک بچہ بھی گود لیا تھا اور اس کو دودھ بھی پلایا تھا،پھر اس کے اصل والد نے تین سال بعد بچہ واپس لے لیا تھا،کیا اس کا مرحوم کی جائیداد میں حصہ ہوگا یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں مرحوم کی میراث کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ  سب سے پہلے مرحوم کے حقوق متقدمہ (تجہیزو تکفین کے اخراجات)ادا کرنے کے بعد ،اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو کل مال سے ادا کرنے کے  بعد،اور مرحوم نے اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو  باقی  مال کے تہائی  حصہ میں سے  اسے  نا فذ کرنے کے بعد  باقی تمام ترکہ    منقولہ و غیر  منقولہ کو 88حصوں میں تقسیم کر کے بیوہ کو 11حصے،ہر ایک بیٹے کو14 حصے اور بیٹی کو 7حصے ملیں گے۔بیوہ نے جس بچہ کو گود لیا تھا،اس کا مرحوم کی جائیداد میں کوئی حصہ نہیں ہے۔

صورت تقسیم یہ ہے:

میت:88/8۔۔مرحوم 

بیوہ بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی
1 7
11 14 14 14 14 14 7

یعنی فیصد کے اعتبار سے بیوہ کو 12.50فیصد،ہر ایک بیٹے کو 15.909فیصد اور   بیٹی کو  7.954فیصد ملے گا۔

2700000روپے میں سے بیوہ کو 337500روپے،ہر ایک بیٹے کو429545.46 روپے اور بیٹی کو214772.73 روپے ملیں گے۔

وفی الفتاوى الهندية:

"ويستحق الإرث بإحدى خصال ثلاث: بالنسب وهو القرابة، والسبب وهو الزوجية۔"

(کتاب الفرائض/6/ 447/ط:رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144305100318
تاریخ16-12-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں