بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک وطن اصلی کو ختم کر کے دوسرے شہرکو وطن اصلی بنانا اور پہلے وطن اصلی میں قصر نماز کا حکم

سوال

ایک شخص ہے جن کی رہائش آبائی گاؤں میں تھی ، گاؤں میں اپنےگھرکےساتھ کچھ زمینیں بھی تھیں، جن میں زراعت کیاکرتاتھا، مگرکسی عارض کی وجہ سےان کوگاؤں چھوڑناپڑا،اورشہرآکراپنی رہائش اختیارکرلی، اوریہیں شہرمیں اپناکام کاج کرتاہے، اس وقت ان کاگاؤں واپس جانے کااردہ بطوررہائش قطعاًنہیں ہے ، جب کہ گاؤں میں موجودزمینوں کواپنے اقرباء کے مابین بطورعاریت تقسیم کردیا، اوراب اپنے گاؤں میں آناجاصرف اعزہ واقرباء کے خوشی وغمی میں شرکت کےلیے ہوتاہے ، یہ بات بھی واضح رہے کہ موصوف اپنی میت (گھرکےافرادمیں سے کسی کی بھی ہو)گاؤں میں خصوصیت کے ساتھ دفناتاہے ۔

ان تمام تفصیلات کے بعدپوچھنایہ ہے کہ اب یہ شخص اگرشہرسے گاؤں جائےاورپندرہ دن سے کم کی نیت ہوتوسفرکی نمازقصرپرھے گایااتمام کرے گا؟کیوں کہ شہراورگاؤں کے درمیان  فاصلہ مقدارسفرکی مسافت سے زائد ہے ۔مسئلہ مذکورہ کی قرآن وسنت کی روشنی میں وضاحت فرماکرممنون فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص نےاپنےآبائی وطن میں رہنے کاارادہ بالکل ترک کردیاہے اور آبائی وطن کومستقل چھوڑ  کر کسی دوسری  جگہ  کواپنامستقل وطن اصلی بنالیاہےتو آبائی وطن اس کاوطن اصلی نہ ہونے کی وجہ سے پندہ دن سے کم قیام کرنے اور تنہا نماز پڑھنے کی صورت  میں وہاں قصرنمازاداکرے گا۔

فتاوی شامی میں ہے :

(الوطن الاصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه (يبطل بمثله) إذا لم يبق له بالاول أهل ۔

(الدرالمختارمع ردالمحتار باب صلوٰۃ المسافر  ۲ /۱۳۱ ط : سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

(من خرج من عمارة موضع إقامته قاصدا مسيرة ثلاثة أيام و لياليها ….. صلى الفرض الرباعي ركعتين …… حتى يدخل موضع مقامه أو ينوي إقامة نصف شهر)

)تنویرالابصار کتاب الصلوة باب صلوةالمسافر  ۲/۱۲۱تا ۱۲۵ ط:سعید)

         فتح القدیر میں ہے :

(وإذا فارق المسافر بيوت المصر صلى ركعتين) ؛ لأن الإقامة تتعلق بدخولها فيتعلق السفر بالخروج عنها.

(فتح القدیر کتاب الصلوة باب صلوةالمسافر  ۲/۳۳ط:دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144305100272
تاریخ15-12-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں