بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خلع کے لیے شوہر کی رضامندی لازمی ہے

سوال

25 جون 2021 ء کو میرا گھریلو  کھانے کی وجہ سے اپنی بیوی سے  جھگڑا ہوا ، وہ بھی معمولی اور میں نے  ہاتھ اٹھایا  اور ایک تمانچہ ماردیا ،27 جو ن 2021ء کو میں صبح ڈیوٹی چلا گیا اور دو بجے میری بہن کا مجھے فون آیا کہ بھابھی گھر سے بچوں کو ساتھ لے کر اپنے والدین کے گھر پنجاب چلی گئی ہے ۔

جب میں نے اپنی بیوی سے رابطہ کیا اور میرے والد جہلم سے میری بیوی کو لینے گیے تو سسرال والوں نے میری بیوی کو میرے والد کے ساتھ بھیجنے سے انکار کردیا اور ہمارا سونا ، پیسے بھی ساتھ لی گئی ہے ، میرے والد نے کہا کہ ہمارا سونا واپس کریں تو اس پر انہوں نے کہا کہ عدالت سے رجوع کریں اور لے لیں ۔میری بیوی کے بھائیوں نے عدالت میں خلع کا کیس دائر کیا ہو اہے اور کہہ رہے ہیں کہ تین ماہ میں خلع ہو جائے گی ، ابھی تک  مجھے عدالت کی طرف سے کوئی پیغام موصول نہیں ہوا ۔

سوال یہ ہے کہ کیا عدالتی  خلع کے بعد  کورٹ کے ذریعے  طلاق واقع  ہو جاتی ہے ؟ 

جواب

صورت ِ مسئولہ میں چوں کہ ابھی  تک سائل کا مسئلہ عدالت میں ہے اور عدالت کی طرف سے  تحریری طور پر   کوئی  ڈگری جاری نہیں ہوئی ہے  ؛ لہذا  عدالتی ڈگری کے جاری ہونے  سے پہلے  اس کو  دیکھے بغیر کوئی شرعی رائے  قائم نہیں کی  جاسکتی ہے ، تاہم اصولی بات یہ ہے کہ خلع کے لیے میاں بیوی دونوں کی رضامندی شرعا ً ضروری ہے ،اس لیے شوہر کی رضامندی کے بغیر  خلع شرعًا معتبر نہیں ہوتا یعنی شوہر کی رضامندی کے بغیر ہونے والے خلع کی وجہ سے  میاں بیوی کا نکاح   ختم  نہیں ہو تا ہے ۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"و أما ركنه فهو الإيجاب و القبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع الفرقة و لايستحق العوض بدون القبول۔"

(کتاب الطلاق ، فصل فی الخلع :  145 / 3، ط : دارالکتاب العربی)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"و أما ركنه فهو الإيجاب و القبول ؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع الفرقة و لايستحق العوض بدون القبول۔"

(باب الخلع : 6 / 173 ، ط : دارالفکر)

فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144305100193
تاریخ13-12-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں