بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اسلام اور کلمہ کو گالی دینے والے کا حکم

سوال

اگر کوئی  آدمی لڑائی جھگڑے کے دوران باتوں باتوں  میں دوسرے کو  یہ الفاظ  کہ :"میں تمہارے اسلام کو   ۔۔۔، تمہارے کلمہ کو  ۔۔۔" بولے  اور  عمومًا ہمارے گاؤں میں ایسا ماحول بن چکا ہے کہ لوگ اس طرح کے جملے بول دیتے ہیں تو مذکورہ جملہ بولنے والے کے بارے میں   شرعًا  کیا حکم ہے ؟

نوٹ: سائل نے گالی کے الفاظ بھی نقل کیے تھے، اشاعت کے وقت ان الفاظ کو  مصلحتًا حذف کیا گیا ہے۔

جواب

واضح رہے کہ ایمان و اسلام اور کلمۂ اسلام کو برا بھلا کہنا ، گالی دینا کفر ہے ؛ لہذا اگر کوئی شخص اسلام کویاکلمہ کوگالیاں دے  تو اس سے وہ شخص کافر ہو جائے گا  ،اس پر لازم ہے کہ توبہ و استغفار کرے اور اپنے  ایمان کی تجدید کرتے ہوئے نکاح کی بھی تجدید کرے ۔

« الفتاوى الهندية»  میں ہے :

"رجل قال للآخر: مسلمانم، فقال له: لعنت برتو و بر مسلماني تو يكفر، كذا في الخلاصة."

(مطلب في موجبات الكفر :  2 / 257 ، ط : المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے :

"(سوال)اگر کوئی شخص اہل ِ اسلام اور مذہب ِ اسلام کی توہین کرے اور برے الفاظ بولے اور گالی گفتا ر دے وے ،  ایسے شخص کی نسبت کیا حکم ہے ؟

(الجوب )اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ جو شخص دین ِ اسلام کو برا کہے اور گالیاں دے ،  وہ اسلام سے خارج ہے  ، اس کو لازم ہے کہ توبہ کرے اور تجدید ِ اسلام کرے اور تجدید ِنکاح کرے ،  ورنہ اس سے اہلِ اسلام کو متارکت اور علیحدگی فرض ہے۔"

(فتاوی دار العلوم دیوبند  ، احکام ِمرتد : 12 / 214 ، ط : دار الاشاعت )

تتمہ احسن الفتاوی میں ہے :

"سوال :ہمارے دیہی علاقوں میں یہ وبا  عام ہے کہ غصہ کی حالت میں دوسرے مسلمان بھائی کو مذہب و ایمان نیز پیر و مرشد کی غلیظ گالی دی جاتی ہے ، ویسے گپ شپ میں بھی یہ گالی دی جاتی ہے، بلکہ یہ گالی تکیہ کلام کے طور پر استعمال کی جاتی ہے ،  مذہب و ایمان کو گالی دینا کیسا ہے اور ایسے شخص کا کیا حکم ہے ؟

الجوب باسم ملہم الصواب

ایمان و اسلام کو گالی دینا کفر ہے ، ایسی کفریات سے احتراز واجب ہے ، ایسے شخص پر توبہ فرض ہے ، توبہ اور تجدید ِ ایمان کے بعد تجدید ِ نکاح بھی کریں ۔"

(کتاب الایمان و العقائد : 3 ، ط : الحجاز بنوری ٹاؤن کراچی)

فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144304101009
تاریخ05-12-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں