بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کی کمائی سے خریدے گئے سامان کس کی ملکیت

سوال

میاں بیوی دونوں حیات ہیں ، میاں نے اپنی کمائی سےگھرخریدااورگھرکاتمام ضروری سامان بھی خریدا،مثلاً فرنیچر، فریج اوردیگرضروری سامان وغیرہ ۔اب معلوم یہ کرناہے کہ یہ گھراوراس کاسامان میاں بیوی دونوں کی ملکیت ہوگایاصرف میاں ہی کی ملکیت رہےگا؟ازاراہ کرم قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں میاں (شوہر)نے اپنی کمائی سے جوگھراورگھرکا ضروری سامان جیسے فرنیچر، فریج  وغیرہ خریداہےتو وہ گھراور تمام سامان صرف شوہرکی ملکیت ہے۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

اعلم أن ‌أسباب ‌الملك ثلاثة: ناقل كبيع وهبة وخلافة كإرث وأصالة، وهو الاستيلاء حقيقة بوضع اليد أو حكما بالتهيئة كنصب الصيد لا لجفاف على المباح الخالي عن مالك۔

(رد المحتار علي الدرالمختار،كتاب الصيد 6/ 463 ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144304100751
تاریخ29-11-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں