بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 ربیع الثانی 1448ھ 09 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زانی کا مزنیہ کی بیٹی سے نکاح اور اس سے پیدا ہونے والی اولاد کا حکم

سوال

ایک شخص کے ایک عورت کے ساتھ ناجائز جسمانی تعلقات قائم تھے، بعد ازاں اس شخص کا اسی عورت (مزنیہ) کی بیٹی کے ساتھ نکاح ہوگیا اور اس نکاح کے نتیجے میں اس کی اولاد بھی پیدا ہوئی۔ اب سوال یہ ہے کہ اس شخص (زانی) کا اپنی مزنیہ کی بیٹی کے ساتھ نکاح کرنا شرعاً جائز تھا یا ناجائز؟ اگر ناجائز تھا تو پیدہ شدہ اولاد کا کیا حکم ہے؟ ان دونوں پر فوری علیحدگی لازم ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ زانی شخص کا اپنی مزنیہ کی بیٹی کے ساتھ نکاح کرنا ناجائز و حرام تھا، کیوں کہ مزنیہ کی بیٹی مذکورہ شخص کے لیے حرام تھی اور محرمات سے نکاح حرام ہے، لہٰذا مذکورہ نکاح شرعاً فاسد قرار پایا۔

اور اب تک دونوں جو ساتھ رہے ہیں، اس کی وجہ سے علیحدگی کے بعد  دونوں پر خوب توبہ و استغفار لازم ہے اور ان دونوں کے درمیان فوری علیحدگی لازم ہے۔

تاہم اس نکاح سے جو اولاد پیدا ہوئی، ان کا نسب اپنے باپ سے ثابت ہے اور وہ اپنے باب کی طرف منسوب ہوں گے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"ولأن الوطء الحلال إنما كان محرما للبنت بمعنى هو موجود هنا، وهو أنه يصير جامعا بين المرأة وبنتها في الوطء من حيث المعنى؛ لأن وطء إحداهما يذكره وطء الأخرى فيصير كأنه قاض وطره منهما جميعا، ويجوز أن يكون هذا معنى قول النبي: - صلى الله عليه وسلم - «ملعون من نظر إلى فرج امرأة وابنتها» وهذا المعنى موجود في الوطء الحرام."

(ج:2، ص:261، کتاب النکاح، فصل المحرمات بالمصاہرۃ، سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"فمن زنى بامرأة ‌حرمت ‌عليه أمها وإن علت وابنتها وإن سفلت، وكذا تحرم المزني بها على آباء الزاني وأجداده وإن علوا وأبنائه وإن سفلوا، كذا في فتح القدير."

(ج:1، ص:274، کتاب النکاح، الباب الثالث، القسم الثانی، ط:رشیدیہ)

وایضاً:

"رجل مسلم ‌تزوج ‌بمحارمه فجئن بأولاد يثبت نسب الأولاد منه عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - خلافا لهما بناء على أن النكاح فاسد عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - باطل عندهما كذا في الظهيرية."

(ج:1، ص:540، کتاب الطلاق، الباب الخامس عشر، ط:رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144304100619
تاریخ25-11-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں