بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک بھائی کی جائیداد میں دوسرے بھائی کا دعوی

سوال

دو بھائی ایک ساتھ رہتے تھے ،اور ان کا کھانا پینا مشترک تھا  لیکن بڑا بھائی گھر پر ہوتا تھا اور چھوٹا بھائی کام کرتا تھا،اس دوران چھوٹے بھائی نے اپنی محنت کی کمائی سے کچھ جائیداد بنائی پھر دونوں بھائی الگ ہوگئے ،اب پوچھنا یہ ہے کہ چھوٹے بھائی کی بنائی ہوئی جائیداد میں بڑے بھائی کا حصہ بنتا ہے یا نہیں ؟دونوں بھائیوں میں کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا۔

جواب

صورت مسئولہ میں چھوٹے بھائی نے اپنی کمائی سے جو جائیداد بنائی ہے اس کا مالک صرف چھوٹا بھائی ہے،بڑے بھائی کاشرعاً اس جائیداد میں کوئی حصہ نہیں ہے البتہ اگر چھوٹا بھائی اپنی خوشی سے اس کو کچھ دینا چاہے تو یہ اس کی طرف سے تبرع اور احسان ہوگا۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"‌حكم ‌الملك ولاية التصرف للمالك في المملوك باختياره ليس لأحد ولاية الجبر عليه إلا لضرورة "

(‌‌فصل فی بيان حكم الملك ج6ص263 ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144304100579
تاریخ24-11-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں