بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر نامرد سے علیحدگی لینے کا حکم

سوال

میری سالی کا شوہر نا مرد ہے ۔شروع میں اگرچہ چند ماہ قبل زوجیت کی ادائیگی کی ہے ،جس کے بعد تقریبا چار سال سے وہ حق زوجیت ادا نہیں کر سکا ۔شرعًا اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ساتھ رہنا بہتر ہے یا علیحدگی بھی جائز ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں جب کہ شوہر ایک مرتبہ سے زیادہ حقِّ زوجیت کی ادائیگی کر چکا ہے تو اب بیوی کو کورٹ وغیرہ کے ذریعے اس نکاح  فسخ کروانے کا حق نہیں ہے۔ البتہ اگر وہ اس شوہر کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تو  اس صورت میں شرعًا اس کو حق ہے  کہ خلع لے  لے،البتہ  شرعًا خلع  صحیح ہونے کے  لیے شوہر کی رضامندی ضروری ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"و أما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع الفرقة ولايستحق العوض بدون القبول". 

(كتاب الطلاق، باب الخلع 3/441، ط: سعيد) 

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144304100371
تاریخ17-11-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں