بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

باہر کے کھانوں سے احتراز کرنا

سوال

میں ایک مدرسہ کی طالبہ ہوں، اگر میں اس نیت سے باہر کے کھانے چھوڑدوں کہ ہدایت اور علم کا نور دل میں آئے (کیونکہ باہر کے کھانے سے ایمان کی حلاوت اور ہدایت کا نور نہیں آتا) تو  اس میں کوئی شرعی ممانعت تو نہیں ہے؟ اگر میں ایسا کررہی ہوں تو کچھ غلط تو نہیں ہے؟ 

جواب

اگر باہر کے کھانے اس نیت سے چھوڑے جائیں کہ ایمان اور علم کا نور حاصل ہو تو اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے  لیکن یاد رہے کہ باہر کے کھانوں سے بچنے کے لیے ایسا رویہ ہرگز  اختیار نہ کیا جائے جو دوسروں کو حرج میں ڈالے یا  ایذاءرسانی کا سبب بنے۔  فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144304100339
تاریخ17-11-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں