بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کے ظلم کی وجہ سے خلع لینا

سوال

میرے شوہراوران کے گھروالے مجھ پر ظلم کرتےہیں گھرمیں ہروقت جھگڑتے رہتےہیں ، اورمجھے مارتے ہیں گھرمیں ساراکام مجھ سے کرواتےہیں ، ہروقت میرے شوہرمجھے طلاق کی دھمکیاں دیتےہیں ، کہ میں تمہیں طلاق دوں گا، طلاق ابھی تک دی نہیں ، اس طرح مجھے والدین کےگھرمہینے میں ایک دن مشکل سےچھوڑتے ہیں ، مجھے اپنے شوہرسے جان کاخطرہ ہے میں اپنے شوہرسے خلع لیناچاہتی ہوں ، کیامیرے لیے خلع لینے کی گنجائش ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر واقعۃ ً شوہراوراس کے گھروالے سائلہ پر ظلم کرتےہیں ، اورمیاں بیوی کے درمیان نباہ مشکل ہورہاہے توسائلہ اولاً شوہرسے طلاق کامطالبہ کرے، اگرطلاق دے دےتوٹھیک، ورنہ حق مہرمعاف کرنے کے بدلہ میں خلع کامطالبہ کرے ،طلاق یاخلع ہوجائےتوعدت گزارکردوسری جگہ نکاح کرناجائز ہوگا۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية ."

( الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الباب الثامن ، الفصل الأول ۱/ ۴۸۸ط: رشيديه)

فتاوی شامی میں ہے:

"وأما ركنه فهو كما في البدائع إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع الفرقة و لايستحق العوض بدون القبول۔"

(كتاب الطلاق، باب الخلع ۳/ ۴۴۱ ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144304100298
تاریخ16-11-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں