بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کا بیوی کو گھر ہبہ کرنا

سوال

میرے شوہر نے اپنا گھر مجھے گفٹ کیا اور مکمل قبضہ و تصرف بھی دے دیا اور سرکاری کاغذات بھی میرے نام کروادیے تھے ، میرے  شوہر خود دوسرے گھر میں رہتے تھے، گفٹ کرتے ہوئے یہ کہاکہ :"یہ گھر آپ کا ہو گیا ، آپ سے آپ کا چھت کوئی نہیں چھین سکے گا ، جب سے گفٹ کیا اسی وقت سے میں اسی گھر میں رہ رہی ہوں اب شوہر کے انتقال کے بعد میرے شوہر کی پہلی بیوی سے  جو اولاد ہے وہ یہ تقاضہ کررہے ہیں کہ یہ گھر ہمیں دے دو ۔

سوال یہ ہے کہ اس گھر میں ان کاحصہ ہے یا نہیں ؟ 

جواب

صورت ِ مسئولہ میں اگر واقعۃً سائلہ کا بیان صحیح اور درست ہے کہ سائلہ کے شوہر نے مذکورہ گھر سائلہ کو ملکیت دے دیا اور قانونی کاغذات سائلہ کے نام پر کرنے ساتھ ساتھ قبضہ بھی دے دیا تو اب یہ گھر شرعاً سائل کی ملکیت ہے اور یہ گھر مرحوم شوہر کے ترکہ میں شامل ہو کر اس کے ورثا کے درمیان تقسیم نہیں ہوگا۔

فتاوی شامی ہے :

"و تتمّ الهبة بالقبض الکامل."

(کتاب الہبۃ : 5 / 690 ، ط : سعید)

فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144304100094
تاریخ09-11-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں