بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 ربیع الثانی 1448ھ 09 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زانی اور مزنیہ کے بیٹے اور بیٹی کے نکاح کا حکم

سوال

زید مریم کے ساتھ زنا جیسے قبیح فعل میں ملوث ہوا، اب مریم کی بیٹی کا رشتہ زید کے بیٹے کے ساتھ طے پایا ہے ۔اب پوچھنا یہ ہے کہ ان دونوں کا آپس میں نکاح جائز ہوگا یا نہیں؟ یعنی زید اور مریم کی اولاد کا آپس میں نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں ؟اگر نہیں ہو سکتا تو ان کو کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے؟ کیوں کہ مریم کہہ رہی ہے کہ شیطان  کی وجہ سے مجھ سے یہ قبیح فعل سرزد ہوگیا، میں بہت استغفار کر رہی ہوں، اب میں بچوں کے رشتے کو منع بھی نہیں کر سکتی تو میرے گناہ کا سب کو پتہ چل جائے گا اور دل میں کٹھن ہو رہی ہے، کیوں کہ اگر ان کا نکاح آپس میں جائز نہیں تو پوری زندگی ناجائز کام میں گزر جائے گی جو میں نہیں چاہتی۔

براہ کرم راہ نمائی فرمائیں کہ میرا گناہ بھی ظاہر نہ ہو اور دونوں کے نکاح کی جائز صورت بھی ہوجائے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر زید نےمریم کے ساتھ زنا کیا ہےتو  یہ انتہائی سخت گناہ ہے، دونوں پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالی سے توبہ و استغفار کریں اور آئندہ اس برے فعل سے باز رہیں، تاہم  ان کے اس گناہ کی وجہ سے ان دونوں کی اولاد کا آپس میں ایک دوسرے سے نکاح  کرنا حرام نہیں،نکاح  جائز ہے۔

شامی میں ہے:

"(قوله : وحرم أيضا بالصهرية أصل مزنيته) قال في البحر: أراد بحرمة المصاهرة ‌الحرمات ‌الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا كما في الوطء الحلال ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها. اهـ.."

(رد المحتار، كتاب النكاح، باب المحرمات، 3/ 32 ط: سعید)

فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144304100082
تاریخ08-11-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں