بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زندگی میں وارث کو کچھ دینا اور پھر ترکہ میں اس کے حصہ سے منہا کرنا

سوال

میری ملکیت میں تقریباًدس کروڑ روپے ہیں،میرے چار بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں ،میں چاہتا ہوں کہ اپنی زندگی میں اپنی ہربیٹی کو 50،50 لاکھ روپےاس نیت سے  دوں کہ   میرے انتقال کے بعد ان کے حصہ سے مذکورہ رقم  منہاکی جائے ،تو کیا ایسا کرنا شرعاًدرست ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل  اپنی زندگی میں اپنی بیٹیوں کو پچاس ،پچاس لاکھ روپے اس شرط كے ساتھ دینا چاہتا ہے کہ یہ رقم بعد میں ان کی میراث کے حصوں میں سے منہا کی جائے گی  تو ایسی صورت میں باہمی رضامندی سےشرعاً ایسا کرسکتا ہے،تاہم بیٹیوں کو رقم دیتے وقت اس بات کی صراحت کرنا ضروری ہے کہ یہ رقم بعد میں ان کے حصوں سے منہا کی جائے گی ،ان کی رضامندی سے یہ معاہدہ کیا جاسکتا ہے۔

الدر مع الرد میں ہے:

"قال القهستاني: واعلم أن الناطفي ذكر عن بعض أشياخه أن المريض إذا عين لواحد من الورثة شيئا كالدار على أن لا يكون له في سائر التركة حق يجوز، وقيل هذا إذا رضي ذلك الوارث به بعد موته فحينئذ يكون تعيين الميت كتعيين باقي الورثة معه كما في الجواهر اهـ. قلت: وحكى القولين في جامع الفصولين فقال: قيل جاز وبه أفتى بعضهم وقيل لا اهـ."

(کتاب الوصیایا،6/655،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144304100047
تاریخ08-11-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں