بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پرانے قبرستان کو ہموار کرکے نئے سرے سے تدفین کے لیے تیار کرنے کا حکم

سوال

علاقہ منڈھارعطر شیشہ  مانسہرہ میں تقریباً ڈیڑھ سو سال پرانا قبرستان ہے، قبروں کی نشانات بھی ختم ہوچکے ہیں، اب ایک عرصہ دراز سے کوئی نئی قبر بھی نہیں ڈالی گئی، اور پرانے بڑے درخت بھی موجود ہیں، ان کو کاٹ کر اور قبرستان کو ہموار کیا جائے اور دوبارہ نئے سرے سے بلڈوزر کے ذریعے جگہ ہموار کرکے نیا قبرستان شروع کیا جائے تو کیسا ہے، شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ قبرستان تقریبًا ڈیڑھ سو سال پرانا اور قبروں کے نشانات بھی مٹ چکے ہیں، نیز عرصہ دراز سے کسی میت کی تدفین بھی نہیں ہوئی ہے، اب اس قبرستان کو تدفین کے لیے  دوبارہ کارآمدبنانا چاہتے ہیں تو اس کی صورت یہ ہے کہ قبرستان میں موجود  درختوں کو کاٹ لیا جائے اور زائد مٹی ڈال کر زمین کو ہموار کرلیا جائے اور اس کے بعد میت کی تدفین کرسکتے ہیں البتہ قبرستان کی زمین کو ہموار کرنے کے  لیے  بلڈوزر  کا استعمال ادب کے خلاف ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"و لو بلي الميت وصار ترابًا ‌جاز ‌دفن غيره في قبره و زرعه و البناء عليه اهـ."

(‌‌‌‌كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة: 2/ 233، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144304100044
تاریخ08-11-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں