بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیماری کے علاج کے لیے نام بدلنا

سوال

میرا بیٹا ہے جس کی عمر چھ سال ہے،اس کانام احراز ہےجس کے معنی ہماری معلومات کے مطابق حفاظت،خداترسی ہے،وہ بہت زیادہ بیمار رہتا ہےہم نے اس کا ڈاکٹری اور روحانی علاج کروایا ہےسارے ٹیسٹ کروائے لیکن کچھ فرق نہیں پڑا ،زیادہ ترلوگ اس کو اعراض کے نام سے پکارتے ہیں ،اب پوچھنا یہ ہےکہ ہم اس کانام تبدیل کرسکتے ہیں یانہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جو نام خلاف شرع ہواس کو بدلنا حدیث سے ثابت ہے،اور جو نام شریعت کے موافق ہواس کو جسمانی امراض کے علاج کےلیے بدلنا ثابت نہیں ،البتہ  لوگوں کے غلط نام پکارنے کی وجہ سے اس کو تبدیل کرنے میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"و كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يغير الاسم القبيح إلى الحسن جاءه رجل يسمى أصرم فسماه زرعة و جاءه آخر اسمه المضطجع فسماه المنبعث."

(كتاب الحظر و الإباحة، ج: 6 ص:418 ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144303101044
تاریخ04-11-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں