بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورتوں کا مردوں سے الٹرا ساؤنڈ کروانے کا حکم

سوال

آج کل لیبارٹریز میں عورتوں کا الٹرا ساؤنڈ مرد حضرات کرتے ہیں، عورتوں کا مردوں سے الٹراساؤنڈ کروانا جائز ہے یا نہیں؟ شریعتِ مطہرہ کی رُو سے راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

اگر معالج / طبیب کی ہدایت کے موافق عورت کے لیے الٹرا ساؤنڈ کروانا ناگزیر ہو تو الٹرا ساؤنڈ کروانے کے لیے اگر ستر کھولناضروری ہو تو عورتوں کو چاہیے کہ اپنا الٹرا ساؤنڈ کسی خاتون معالج سے ہی کروائیں،  جب تک عورت کے لیے کسی خاتون معالج سے الٹرا ساؤنڈ کروانا ممکن ہو اس وقت تک عورت کے لیے کسی مرد معالج سے الٹرا ساؤنڈ کروانا جائز نہیں ہے۔  

درر الحکام میں ہے:

"(ورجل يداويها فينظر إلى موضع مرضها بقدر الضرورة) وينبغي أن يعلم امرأة مداواتها لأن نظر الجنس إلى الجنس أخف ألا يرى أن المرأة تغسل المرأة بعد موتها دون الرجل".

(درر الحكام شرح غرر الأحكام، كتاب الكراهية والاستحسان،فصل عورة الرجل والمرأة، 1/ 314، دار احیاء الکتب العربیۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144303100989
تاریخ03-11-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں