بیوی کو " ہمارے درمیان طلاق واقع ہوجائے گی" کہنے کا حکم
سوال
میں نے ایک دن گھریلو جھگڑے کے دوران اپنی بیوی سے کہا کہ :"آپ بے جا بچوں کو تحفظ دیتی ہو اور ان کے غلط کاموں پر جب میں ان پر غصہ کرتا ہوں تو آپ ان کا ساتھ دیتی ہو، ایسا نہ کرو، ورنہ اس روز روز کی نوک جھونک کا نتیجہ ایک دن یہی نکلے گا کہ ہمارے درمیان طلاق واقع ہوجائے گی"، بس اتنا سا میں نے ان کو کہا اور وہ بھی انہیں سمجھانے کی نیت سے کہا، لیکن اتنی سی بات پر وہ چلی گئی اور کہہ رہی ہے کہ آپ نے مجھے طلاق دے دی ہے، کیا اس بات سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃ سائل نے اپنی بیوی کو یہ کہا تھا کہ: "آپ بے جا بچوں کو تحفظ دیتی ہو اور ان کے غلط کاموں پر جب میں ان پر غصہ کرتا ہوں تو آپ ان کا ساتھ دیتی ہو، ایسا نہ کرو،ورنہ اس روز روز کی نوک جھونک کا نتیجہ ایک دن یہی نکلے گا کہ ہمارے درمیان طلاق واقع ہوجائے گی" تو اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی اور وہ بدستور آپ کے نکاح میں ہیں۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"في المحيط لو قال بالعربية : أطلق لا يكون طلاقا۔"
(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب الثاني في إيقاع الطلاق،الفصل السابع في الطلاق بالألفاظ الفارسية، 1/ 384، ط:رشيدية)
فقط و الله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

