بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچوں کے نان نفقے حکم

سوال

کیافرماتےہیں علماء دین اسلام اس مسئلہ میں کہ :

میاں بیوی کے درمیان عدالت میں تنسیخ نکاح ہوکربچے (لڑکے، لڑکیاں ) نابالغان ماں کوحوالے کیے گئے اورساتھ عدالت نے باپ پر نان ونفقہ پانچ ہزارروپےماہانہ فی کس لگایاہے، اب سوال یہ ہےکہ مذکورہ صورت میں باپ اپنے بچے (لڑکےنابالغ )کےلیےکتنی عمرتک نان نفقہ کاشرعاً پابندہوگا؟نیز باپ اپنی بیٹی کےلیے کتنی عمرتک نان نفقہ کاشرعًا پابندہوگا؟حوالہ جا ت دے کر ممنون فرمائیں۔

جواب

صورتِ  مسئولہ میں نابالغ بچوں کے نفقہ کی ذمہ داری والد پرلازم ہے، اور  لڑکا کمانے کے قابل نہ ہواورلڑکی کی شادی نہ ہوجائے اس وقت تک والد کی حیثیت اوربچوں کی ضرورت کے مطابق ان کے نان نفقہ کی ذمہ داری شرعاً والد پرلازم ہے۔

            فتاوی ہندیہ میں ہے:

"نفقة الأولاد الصغار على الأب لايشاركه فيها أحد، كذا في الجوهرة النيرة ... و نفقة الإناث واجبة مطلقًا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال، كذا في الخلاصة . و لايجب على الأب نفقة الذكور الكبار إلا أن الولد يكون عاجزًا عن الكسب لزمانة، أو مرض."

(الفتاوى الهندية، الباب السابع عشر في النفقات ، الفصل الرابع في نفة الأولاد ۱/ ۵۶۳،۵۶۰ ط:رشیدیہ)

و فيه أيضاً:

"الذكور من الأولاد إذا بلغوا حد الكسب و لم يبلغوا في أنفسهم يدفعهم الأب إلى عمل ليكسبوا أو يؤاجرهم و ينفق عليهم من أجرتهم وكسبهم، و أما الإناث فليس للأب أن يؤاجرهن في عمل أو خدمة، كذا في الخلاصة".

(الفتاوى الهندية، الباب السابع عشر في النفقات ، الفصل الرابع في نفة الأولاد ۱/ ۵۶۲ ط:رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144303100904
تاریخ01-11-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں