بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں مالک یوم الدین کو مالیک یوم الدین پڑھنے سے نمازکا حکم

سوال

بعض لوگ نماز میں قرأت کے دوران کچھ الفاظ تبدیل کر کے پڑھتے ہیں مثلاً:مالك یوم الدین کی جگہ مالیك  پڑھتے ہیں ،اسی طرح إلى ربك  کی جگہ  إلى ربیك پڑھتے ہیں ،کیا اس سے نماز ہوجاتی ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں {  مالك یوم الدین} کو "مالیك" پڑھنا اور"إلى ربك" کو "ربیك" پڑھنا  لحنِ جلی ہونے کی وجہ سےناجائز اور حرام ہے ،تاہم  مذکورہ الفاظ کے معنی  میں تغیر فاحش نہ ہونے کی وجہ سے اس سے نماز فاسد نہیں ہوگی،لیکن اس طرح قرأت کو معمول بنانا درست نہیں ہوگا؛  قرانِ کریم کو سیکھ کر  اس کے قواعد کا لحاظ کرکے  تجوید کے ساتھ عربی لہجے میں پڑھنے کااہتما کیا جانا ضروری ہے ، خصوصًا امام ایسا ہونا  چاہیے جو قرآنِ کریم کو تجوید کے قواعد کی رعایت رکھ کر پڑھ سکے ۔

 فتاوی ہندیہ میں ہے  :

"(و منها) زيادة حرف إن زاد حرفا فإن كان لايغير المعنى لاتفسد صلاته عند عامة المشايخ نحو أن يقرأ وانهى عن المنكر بزيادة الياء. هكذا في الخلاصة."

(ج:۱،ص:۷۹،کتاب الصلوٰۃ،الفصل الخامس فی زلۃ القاری،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144303100657
تاریخ25-10-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں