بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تحکیم

سوال

ہماری مسجد کی حکومت سے منظور شدہ  ایک کمیٹی ہے،  خطیب اس کمیٹی کا صدر ہے، ناظرہ کی ایک کلاس امام مسجد کی نگرانی میں ہے،اور دوسری ایک    کلاس قاری صاحب کی نگرانی میں ہے،کلاسوں کی نظم و ترتیب میں  امام صاحب اور قاری صاحب  کے درمیان سخت  جھگڑا  ہوتا ہے،  کبھی  یہ جھگڑا اتنی شدت اختیار کرتا ہے  کہ آوازیں  دور     دور تک سنائی دیتی ہیں۔

قصہ مختصر یہ کہ امام صاحب    کا دعوی   ہے   کہ یہ سارا    نظام میرے ماتحت ہونا چاہیے؛ کیوں کہ  میں کمیٹی کا صدر ہوں، عوام کے تعاون سے   مسجد کی  تمام اخراجات کا   انتظام کرتا  ہوں اور ہر معاملہ میں میں جواب دہ ہوں۔

قاری صاحب کا دعوی ہے کہ سارا نظام میرے ماتحت ہونا چاہیے؛ کیوں کہ  میں اس امام صاحب سے پہلے آیا ہوں ۔ مقامی علماء نے   مصالحت کی کوشش کی لیکن ناکام   رہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دے کہ قاری صاحب کا دعوی درست ہے یا امام صاحب کا؟

جواب

 مسجد کی موجودہ کمیٹی  جو فیصلہ کرے  اس کے مطابق  عمل کیا جائے گا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144303100554
تاریخ23-10-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں