بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جا جا تجھے طلاق دیتا ہوں سے کتنی طلاق واقع ہوگی؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ پندرہ بیس دن قبل میں نے اپنی بیوی کو کہا: "جا! جا! تجھے طلاق دیتا ہوں"۔برائے مہربانی میری راہنمائی فرمائیے کہ کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں اور کیا ہم دوبارہ رجوع کرسکتے ہیں؟

جواب

صورت مسؤلہ میں مذکورہ جملہ "جا! جا! تجھے طلاق دیتا ہوں" سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ہے البتہ سائل عدت (تین ماہواری) کے اندر قولاً یا فعلاً رجوع کرلے تو نکاح برقرار رہے گا اور آئندہ کے لئے دو طلاق کا حق ہوگا۔

وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض۔

(الفتاوی العالمگیریہ، کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به: ۱/ ۴۷۰، ط: رشیدیۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144303100430
تاریخ18-10-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں