بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

500گھروں پر مشتمل گاؤں میں نماز جمعہ کاحکم

سوال

ہمارے  گاؤں میں  تقریبا  500 گھر ہیں اور آبادی تقریبا 60/50 ہزار  افراد کی ہے ، کیا ہمارے گاؤں میں  جمعہ کی  نماز ادا کی  جاسکتی ہے یا نہیں؟راشن وغیرہ کے دس پندرہ دکانیں  موجود ہیں اور ڈسپنسری  کی سہولت بھی ہے ،اور روز مرہ ضروریات کی چیزیں مل جاتی ہیں۔

جواب

واضح رہے کہ نماز جمعہ کے صحیح ہونے کے لئے اس جگہ کا مصر(شہر)ہونا یا فناءِ مصر ہونا یا قریہ کبیرہ(بڑا گاؤں)ہونا شرط ہے،قریہ کبیرہ سے مراد یہ ہے کہ وہ گاؤں اتنا بڑا ہو جس کی مجموعی آبادی کم از کم ڈھائی،تین ہزار لوگوں پر مشتمل ہو،اور وہاں ضرورت کی اشیاء آسانی سے مل جاتی ہوں۔

صورتِ مسئولہ میں اگر مذكوره گاؤں 60/50ہزار  افراد کی آبادی پر مشتمل  ہے ،تو اس  میں جمعہ پڑھنا واجب ہے     ۔

فتاوی شامی میں ہے:

تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق.

(کتاب الصلوۃ،باب الجمعہ/ج:2/ص:138/ط:سعید)

البحر الرائق  میں ہے:

(قوله شرط أدائها المصر) أي شرط صحتها أن تؤدى في مصر حتى لا تصح في قرية، ولا مفازة لقول علي - رضي الله عنه - لا جمعة، ولا تشريق، ولا صلاة فطر، ولا أضحى إلا في مصر جامع أو في مدينة عظيمة رواه ابن أبي شيبة وصححه ابن حزم وكفى بقوله قدوة وإماما، وإذا لم تصح في غير المصر فلا تجب على غير أهله،

وفي حد المصر أقوال كثيرة اختاروا منها قولين: أحدهما ما في المختصر ثانيهما ما عزوه لأبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره والناس يرجعون إليه في الحوادث قال في البدائع، وهو الأصح وتبعه الشارح، وهو أخص مما في المختصر، وفي المجتبى وعن أبي يوسف أنه ما إذا اجتمعوا في أكبر مساجدهم للصلوات الخمس لم يسعهم، وعليه فتوى أكثر الفقهاء وقال أبو شجاع هذا أحسن ما قيل فيه، وفي الولوالجية وهو الصحيح،

(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجمعہ2/ 151/152ط:دارالکتاب الاسلامی )

فقط واللہ واعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144303100413
تاریخ18-10-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں