بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کے نانا سے پردہ نہیں ہے

سوال

میری بیٹی کی  شادی ہوچکی ہے ، اس کا ایک بیٹا ہے جو کہ شادی شدہ ہے ،میری بیٹی اپنی بہو کو مجھ سے  پردہ کرنا چاہتی ہے،  کیا اس کا یہ عمل درست ہے ؟

جواب

واضح رہےکہ شرعی نقطہ نظرسے مرد یا عورت کے لیے رشتہ داروں سے پردے کے بارے میں قاعدہ یہ ہے کہ جن رشتہ داروں سے (مرد یا عورت کا ) نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہے، اُن سے پردہ نہیں۔اورجن عورتوں سے نکاح کرناحرام قراردیاگیاہےان میں بیٹے کی بیوی بھی شامل ہے ، اوربیٹے کے عموم میں پوتا، اورنواسہ بھی داخل ہے۔

لہذاصورتِ  مسئولہ میں سائل اپنےنواسے کی بیوی کامحرم ہے ،اور نواسے کی بیوی  کاسائل سے  پردہ نہیں ہے ۔

فتح القدیر میں ہے:

"و المحرم من لاتجوز المناكحة بينه و بينها على التأبيد بنسب كان أو بسبب كالرضاع و المصاهرة لوجود المعنيين فيه، و سواء كانت المصاهرة بنكاح أو سفاح في الأصح لما بينا."

(فتح القدیر لکمال بن الهمام ،كتاب الكراهية ، فصل في الوطء والنظر واللمس ،۱۰/۳۴ ط: دارالفکر)

قرآن مجیدمیں اللہ تعالی کاارشادگرامی ہے:

{وَ اُمَّهٰتُ نِسَآىِٕكُمْ وَ رَبَآىِٕبُكُمُ الّٰتِيْ فِيْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآىِٕكُمُ الّٰتِيْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ ۡ وَ حَلَآىِٕلُ اَبْنَآىِٕكُمُ الَّذِيْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ}

(سورۃ النساء الآیۃ  ۔۲۳ )

ترجمہ :اور تمہاری عورتوں کی مائیں اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری پرورش میں ہیں جن کو جنا ہے تمہاری ان عورتوں نے جن سے تم نے صحبت کی اور اگر تم نے ان سے صحبت نہیں کی تو تم پر کچھ گناہ نہیں اس نکاح میں اور عورتیں تمہارے بیٹوں کی جو تمہاری پشت سے ہیں۔ (تفسیرعثمانی )

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144303100404
تاریخ18-10-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں