بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک وارث سے رابطہ منقطع ہے تو اس کے حصے کا کیا کیا جائے؟

سوال

منسلکہ فتوے کے مطابق ہمیں اس بارے میں تو معلومات ہوگئیں کہ ہر وارث کا والدہ کے ترکہ میں کتنا حصہ ہے، اب ایک بہن گاؤں میں ہےاس سے ہمارا کوئی رابطہ نہیں ، کچھ ناراضگی ہے، جب کہ ہمیں بینک سے پیسے نکلوانے ہیں تو کیا ہم اپنے حصے کے پیسے نکلواکرموجودہ ورثاء میں تقسیم کرسکتے ہیں؟اور جو بہن فی الحال موجود نہیں اس کے حصے کی رقم کس کے پاس رکھی جائے گی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ کا گاؤں والی بہن سے ناراضی کی وجہ سے عارضی طور پر رابطہ منقطع ہے،رابطہ قائم کرنا ناممکن نہیں، تاہم  اگر آپ  کسی معقول و شرعی وجہ سے خود  بہن سے رابطہ نہیں کرنا چاہتے تو  خاندان کے کسی بااعتماد شخص کے ذریعے اس کا شرعی حق اس تک  پہنچاسکتے ہیں،لہذا بینک سے ترکہ کے پیسے نکلواکر ہر وارث کو اس کا حصہ دے دیں اور بہن کا حصہ خاندان کے کسی بااعتماد شخص کے ذریعے اس تک پہنچانے کی کوشش کریں۔اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو  بہن کی رقم کسی قابل اعتماد شخص کے پاس  رکھوائی جائے ،یا بینک ہی میں چھوڑ دی جائے۔ فقط واللہ اعلم   

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144303100267
تاریخ14-10-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں