بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خلوت صحیحہ کے بعد دخول سے پہلے طلاق کی صورت میں مہر کا حکم

سوال

میاں بیوی کا نکاح ہوا اور رخصتی بھی ہو گئی ،بوس و کنار ہوا لیکن دخول نہیں ہوا، پھر طلاق ہو گئی ،کیا اب بیوی حق ِمہر لینے کی حق دار ہے یا نہیں ؟ اگر ہے تو پورا مہر لے گی یا آدھا  ؟وضاحت فرمائیں !

جواب

صورت مسئولہ میں جب  رخصتی کے بعد خلوت صحیحہ (کامل خلوت)ہو گئی  اور بوس و کنار بھی ہوا تو اس صورت میں چاہے جماع کیا ہو یا نہ کیا ہو بیوی پورا حقِ مہر لینے کی حق دار ہے ۔

    الدر المختار میں ہے:

(والخلوة) مبتدأ خبره قوله الآتي كالوطء (بلا مانع حسي) كمرض لأحدهما يمنع الوطء (وطبعي) كوجود ثالث عاقل ذكره ابن الكمال(وشرعي) كإحرام لفرض أو نفل

(کتاب النکاح،باب المہر،مطلب  فی حط المہر والابراء منہ،ج:3،ص:114،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144303100171
تاریخ12-10-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں