بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بگڑے ہوئے الفاظ سے قسم

سوال

ایک شخص قسم سے بچنے کے لیے الفاظ قسم کی جگہ لفظ کسم یاقسن ذکرکرتا ہے،اللہ تعالی کا نام ذاتی یانام صفاتی ذکر نہیں کرتا، تو کیا شریعت کی رو سے ان الفاظ سے قسم واقع ہوگی یا نہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر واقعتًا مذکورہ شخص نے قسم سے بچنے کے لیے  جان بوجھ کر لفظِ قسم میں "ق" کی جگہ "ک"یعنی کسم یا قسن کے الفاظ استعمال کیے ہو تو اس صورت میں قسم واقع نہیں ہوگی ،تاہم اگر کوئی شخص صرف لفظ قسم ادا کرے،اللہ تعالی کا ذاتی یا صفاتی نام اپنی زبان سے ادا نہ کرے تو اس سے بھی قسم منعقد ہو جائے گی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(و أما ركن اليمين بالله) فذكر اسم الله، أو صفته."

(کتاب الایمان ج51/2ط:دارالفکر)

وفیه أیضًا:

"و لو قال: أشهد أن لا أفعل كذا، أو أشهد بالله، أو قال: أحلف، أو أحلف بالله، أو أقسم، أو أقسم بالله، أو أعزم، أو أعزم بالله، أو قال: عليه عهد، أو عليه عهد الله أن لايفعل كذا، أو قال: عليه ذمة الله أن لايفعل كذا يكون يمينًا."

(کتاب الایمان ج51/2ط:دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144303100131
تاریخ12-10-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں