بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ٹی شرٹ کا کاروبار کرنا

سوال

ٹی شرٹ کا بزنس کرنا کیسا ہے ،جب کہ خواتین بھی ہوتی ہیں جو پردہ کے ساتھ یا پردہ کے بغیر ہر طرح سے استعمال کرنے میں آزاد ہوتی ہیں ،اور خریدار پر ہمارا  زور نہیں کہ ہم پاپند کریں کہ مرد ہی پہنیں گے ،اس حوالے سے شریعت کیا کہتی ہے ،؟نیز اس حوالے  سےآپ کے ویب سائٹ پر دو الگ الگ جوابات والے فتوے موجود ہیں ۔دونوں فتاوی منسلک ہیں !

جواب

صورتِ  مسئولہ میں ٹی شرٹ کا کاروبار کرنا شرعًا جائز ہے، البتہ پينٹ  اتنی چست  نہ ہو کہ اس کے پہننے کے بعد اعضاءمستورہ  کا حجم اور خد وخال نظر آئے،  لیکن   پھر بھی مغربی لباس ہے جو مشرقی روایتوں کے خلاف ہے ،اور اگر اتنی تنگ اور  چست ہو کہ اس سے جسم کی خدوخال  نظر آئے  تو پھر ایسی پینٹ  کا استعمال اور کاروبار دونوں نا جائز ہیں ؛ کیوں کہ اس سے لباس کا مقصد فوت ہوجاتا ہے ۔

            جن دو فتاوی کا حوالہ سائلہ نے دیا ہے  اس میں یہی بات مشترک ہے کہ   لباس  کا مقصد  یہ ہے کہ وہ ساتر ہو اور چست نہ ہو کہ جسم کی ساخت اور خدوخال واضح ہوتے ہوں اور جس لباس  میں مقصود جسم کی ستر پوشی کے بجائے  اس کی نمائش ہو اور لباس کی اصل مقصدیت فوت ہو جائے تو ایسا  لباس پہننا اور فروخت کرنا دونوں ممنوع ہیں ۔فقط وللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144303100051
تاریخ10-10-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں