بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قبر کو پختہ کرنا جائز نہیں ہے

سوال

میں نے اپنی بیوی کی قبر پکی بنائی یعنی قبر کے اوپر سلیپ لگا کر سلیپ کے اوپر تین سریے لگاکر پلاستر کروادیا تاکہ سلیپ مضبوط ہوکر ٹوٹے نہیں ۔اب پوچھنا یہ ہے کہ قبر کے مضبوطی کے لیے جو سریے لگائے گئے اس  کا شرعاً کیا حکم ہے ،جائز ہے یا نہیں ؟ اگر جائز نہیں تو پھر اس کو نکالا جائے؟

جواب

واضح رہے کہ قبر کو پختہ کرنا شرعًا جائز نہیں ہے؛ لہذا صورت ِ مسئولہ میں سائل کا اپنی بیوی کے قبر پر  سریے لگا کر اوپر  سے پلاستر کردینا/کروا دینا شرعًا جائز نہیں تھا ،لیکن جب سب کچھ کردیا تو اب  اس کو اسی حال پر چھوڑ دیا جائے ،قبر کو کھول کر  سریے وغیرہ نہ نکالے جائیں۔

مشكاة المصابيح میں ہے:

"عن جابر قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يجصص القبر و أن يبنى عليه وأن يقعد عليه. رواه مسلم."

(باب دفن الميت:1/533،ط: المكتب الإسلامي - بيروت)

وفیه أیضاً:

"عن جابر قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تجصص القبور و أن يكتب عليها وأن توطأ. رواه الترمذي."

(باب دفن الميت:1/535،ط: المكتب الإسلامي - بيروت)

و في حاشية ابن عابدين :

"(قوله: و لايجصص) أي لايطلى بالجصّ بالفتح و يكسر قاموس (قوله: و لايرفع عليه بناء) أي يحرم لو للزينة، و يكره لو للإحكام بعد الدفن."

(مطلب في دفن الميت:2/237،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144303100006
تاریخ09-10-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں