بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک بیوہ، بیٹا، بیٹی اور ماں میں میراث کی تقسیم

سوال

 مرحوم نے اپنے پیچھے ایک بیوہ، بیٹا، بیٹی اور ماں کو سوگوار چھوڑا ہے ، ترکے میں اپنے نام سے ایک مکان چھوڑا ہے۔ دریافت کرنا ہے کہ جائیداد میں مندرجہ بالا افراد کا کیا حصہ ہوگا؟ 

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مرحوم کے حقوق متقدمہ یعنی کفن دفن کے اخراجات نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو اسے ادا کرنے کے بعد، اگرمرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو اسے ایک تہائی ترکہ سے پورا کرنے کے بعد باقی ترکہ منقولہ وغیرمنقولہ کے  72 حصے کرکے  9 حصے مرحوم کی بیوہ کو، 12 حصے والدہ کو،  34 حصے بیٹے کو اور 17 حصے بیٹی کو ملیں گے۔ 

میت:72/24

بیوہوالدہبیٹابیٹی
3417
9123417

یعنی مثلاً  /100 روپے میں سے /12.50 روپے بیوہ کو، /16.66روپے والدہ کو، /47.22 روپے بیٹے کو اور /23.61 روپے بیٹی کو ملیں گے۔

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144302200021
تاریخ28-09-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں